WhatsApp

چھاتی کا سرطان (Breast Cancer): تشخیص اور علاج

چھاتی کا سرطان (Breast Cancer): تشخیص اور علاج سادہ الفاظ میں

چھاتی کا کینسر خواتین میں پائے جانے والے کینسر کی سب سے عام قسم ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ اگر یہ مرض ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو اس کا علاج انتہائی کامیاب ہے، اور آج کل کے جدید طریقہ علاج سے بہت سی خواتین چھاتی کو محفوظ رکھتے ہوئے بھی مکمل صحت یاب ہو جاتی ہیں۔ اس مضمون میں سادہ زبان میں بتایا گیا ہے کہ علامات کیا ہیں، تشخیص کیسے ہوتی ہے، اور علاج کے اختیارات کیا ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر زاہد محمود، جنرل اور لیپروسکوپک سرجن لاہور
پروفیسر ڈاکٹر زاہد محمود — جنرل، لیپروسکوپک اور لیزر سرجن، لاہور

علامات کیا ہیں؟

چھاتی کے کینسر کی سب سے عام علامت چھاتی میں کوئی گلٹی یا گانٹھ محسوس ہونا ہے جو عام طور پر بغیر درد کے ہوتی ہے۔ دیگر علامات میں شامل ہیں:

  • چھاتی کی جِلد کا کھچاؤ، گڑھا پڑ جانا یا نارنجی کے چھلکے جیسا نظر آنا
  • نپل کا اندر کی طرف دھنس جانا یا اس کی شکل میں تبدیلی
  • نپل سے خون آمیز رطوبت کا اخراج
  • بغل (axilla) میں گلٹی محسوس ہونا
  • چھاتی کے سائز یا شکل میں غیر معمولی تبدیلی

اگر آپ کو ان میں سے کوئی بھی علامت محسوس ہو تو گھبرانے کی ضرورت نہیں — زیادہ تر گلٹیاں کینسر نہیں ہوتیں (جیسے فائبروایڈینوما یا سسٹ)۔ لیکن ہر گلٹی کا معائنہ کسی ماہر سرجن سے کروانا ضروری ہے تاکہ بروقت تشخیص ہو سکے۔

کن خواتین کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟

وہ عوامل جن پر قابو ممکن ہے:

  • زیادہ وزن اور موٹاپا (خاص طور پر مینوپاز کے بعد)
  • کبھی بچے نہ ہونا، یا پہلا حمل 35 سال کی عمر کے بعد
  • دودھ نہ پلانا (دودھ پلانا حفاظتی اثر رکھتا ہے، خاص طور پر 12 ماہ سے زیادہ)
  • ہارمون ری پلیسمنٹ تھراپی کا طویل استعمال
  • تمباکو نوشی اور شراب نوشی

وہ عوامل جن پر قابو ممکن نہیں:

  • عمر کا بڑھنا (خطرہ عمر کے ساتھ بڑھتا ہے)
  • خاندان میں چھاتی کے کینسر کی تاریخ — والدہ، بہن یا بیٹی میں یہ مرض ہونے سے خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے
  • جینیاتی رجحان (BRCA1/BRCA2 جینز) — تقریباً 5 سے 10 فیصد کیسز موروثی ہوتے ہیں

تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟ — “ٹرپل اسسمنٹ”

جب کوئی مریضہ چھاتی میں گلٹی یا کوئی علامت لے کر آتی ہے، تو ہم سرجن ایک منظم طریقہ اپناتے ہیں جسے “ٹرپل اسسمنٹ” (Triple Assessment) کہا جاتا ہے۔ اس میں تین مراحل شامل ہیں، اور ان تینوں کو ملا کر تشخیص کی درستگی تقریباً 100 فیصد تک پہنچ جاتی ہے:

  • طبی معائنہ — مکمل تاریخ لینے اور چھاتی کے معائنے سے آغاز ہوتا ہے۔
  • ریڈیالوجی امیجنگالٹراساؤنڈ جوان خواتین میں (گھنے ٹشو والی چھاتیوں) پہلا انتخاب ہے اور بتاتا ہے کہ گلٹی سیال (سسٹ) ہے یا ٹھوس۔ میموگرافی 40 سال سے زائد عمر کی خواتین میں پہلی تحقیقی سہولت ہے اور اسکریننگ کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ بعض خاص صورتوں میں MRI بھی مددگار ہوتا ہے۔
  • بایوپسی — کور بایوپسی کے ذریعے ٹشو کا نمونہ لے کر خردبین کے نیچے جانچا جاتا ہے — یہی حتمی تشخیص کی بنیاد بنتا ہے۔

ان تینوں مراحل کو ملانے کے بعد ہی حتمی تشخیص اور علاج کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

مرض کی سٹیجنگ

اگر بایوپسی میں کینسر کی تصدیق ہو جائے تو اگلا مرحلہ یہ جاننا ہے کہ مرض کس حد تک پھیلا ہے — اسے سٹیجنگ (Staging) کہتے ہیں۔ اس میں ٹیومر کا سائز، بغل کے غدود (لمف نوڈز) کا تجزیہ، اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ مرض جسم کے کسی اور حصے تک تو نہیں پہنچا۔ سٹیج جتنی ابتدائی ہو، علاج اتنا ہی آسان اور کامیاب ہوتا ہے — اسی لیے جلد تشخیص کی اتنی اہمیت ہے۔

علاج کے اختیارات

چھاتی کے کینسر کا علاج ہر مریضہ کی صورتحال کے مطابق مختلف ماہرین کی ٹیم (سرجن، آنکالوجسٹ، ریڈیالوجسٹ) کی مشاورت سے طے کیا جاتا ہے۔

1. سرجری — ابتدائی مرحلے کے کینسر میں سرجری علاج کا مرکز ہے، اور اب زیادہ تر مریضوں کے لیے چھاتی کو محفوظ رکھنے والے طریقے اپنائے جاتے ہیں:

  • بریسٹ کنزرویشن سرجری (BCS) — صرف ٹیومر اور اس کے اردگرد صحت مند ٹشو کا کچھ حصہ نکالا جاتا ہے، چھاتی کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد ریڈیوتھراپی لازمی دی جاتی ہے۔
  • ماسٹیکٹومی (Mastectomy) — جب ٹیومر بڑا ہو، چھاتی میں کئی جگہ پھیلا ہو، یا مریضہ کی اپنی ترجیح ہو تو پوری چھاتی نکالی جاتی ہے۔ خواہش کے مطابق چھاتی کی تعمیرِ نو (reconstruction) بھی ممکن ہے۔
  • سینٹینل لمف نوڈ بایوپسی — بغل کے سب سے پہلے غدود کی جانچ کی جاتی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کینسر بغل تک پھیلا ہے یا نہیں — اس سے غیر ضروری طور پر تمام غدود نکالنے سے بچا جا سکتا ہے۔

2. ریڈیوتھراپی — چھاتی کو محفوظ رکھنے والی سرجری کے بعد عام طور پر لازمی ہوتی ہے تاکہ باقی ماندہ کینسر خلیات ختم کیے جا سکیں۔

3. کیموتھراپی — بعض صورتوں میں سرجری سے پہلے (ٹیومر کو چھوٹا کرنے کے لیے) یا سرجری کے بعد (دوبارہ ہونے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے) دی جاتی ہے۔

4. ہارمون تھراپی — ایسے کینسرز میں جو ہارمون (ایسٹروجن) کے زیرِ اثر بڑھتے ہیں، ادویات جیسے ٹیموکسیفن استعمال کی جاتی ہیں تاکہ دوبارہ ہونے کا خطرہ کم ہو۔

5. ٹارگٹڈ تھراپی — بعض مخصوص قسم کے کینسرز میں جدید ادویات دستیاب ہیں جو خاص طور پر کینسر خلیات کو نشانہ بناتی ہیں۔

جلد تشخیص ہی کامیابی کی کنجی ہے

چھاتی میں کوئی بھی نئی تبدیلی محسوس ہو — گلٹی، جِلد میں تبدیلی، یا نپل سے رطوبت — تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ خوف کی وجہ سے تاخیر مرض کو بڑھنے کا موقع دیتی ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے پر علاج آسان، کامیاب اور اکثر چھاتی کو محفوظ رکھتے ہوئے ممکن ہوتا ہے۔

اپائنٹمنٹ بک کروائیں

اگر آپ کو یا آپ کی کسی عزیزہ کو چھاتی سے متعلق کوئی تشویش ہے تو پروفیسر ڈاکٹر زاہد محمود — جنرل، لیپروسکوپک اور لیزر سرجن، لاہور — آپ کا معائنہ اور علاج کر سکتے ہیں۔ اپائنٹمنٹ کے لیے کال یا واٹس ایپ کریں: 0300-4130159

یہ مضمون صرف عام معلومات اور آگاہی کے لیے ہے۔ یہ ذاتی طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ اپنی تکلیف کے بارے میں کسی مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔


متعلقہ مضامین

دیگر امراض کے علاج